حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لاہور/ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے خطاب میں کہا کہ ٹرمپ انتخابات سے پہلے ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنا چاہتا ہے یا ایسی فیصلہ کن فوجی کارروائی کرنا چاہتا ہے جسے اپنی کامیابی قرار دے کر امریکی عوام کے سامنے پیش کر سکے۔ امریکہ کی پالیسی دراصل ایک ہاتھ میں گاجر اور دوسرے ہاتھ میں خنجر رکھنے کی پالیسی ہے، یعنی ایک طرف مذاکرات اور معاہدے کی پیشکش اور دوسری طرف جنگ اور تباہی کی دھمکیاں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ٹرمپ اپنی بقا کے لیے عرب اتحادیوں کی طرف دیکھ رہا ہے اور عرب اتحادی اپنی بقا کے لیے ٹرمپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ تاہم ایران کے نزدیک ٹرمپ ہارے یا جیتے، اس سے کوئی بنیادی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ ایران کی جنگ کسی ایک امریکی صدر کے خلاف نہیں بلکہ امریکہ کے شیطانی اور استکباری نظام کے خلاف ہے۔ ایران کا مؤقف واضح ہے کہ معاہدہ کرنا ہے تو ہماری شرائط پر ہوگا اور حملہ کرنا ہے تو ہم جواب دیں گے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ اس مرتبہ نہ جنگ پہلے جیسی ہوگی اور نہ جواب پہلے جیسا، بلکہ امریکہ کو ایسا غیر روایتی جواب دیا جائے گا جو اسے ہمیشہ یاد رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے ممکنہ امریکی انخلا کے بعد مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا جانشین بننے اور اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی تیاری کر رکھی ہے۔ ترکیہ اور مصر کو ایک طاقتور بن سلمان پسند نہیں بلکہ وہ ایک کمزور، جھکا ہوا اور شکست خوردہ بن سلمان چاہتے ہیں، جو اب انہیں میسر آ چکا ہے، جبکہ پاکستان اپنی ضروریات اور مشکلات کے لیے ایک الگ طرح کے بن سلمان کا خواہاں ہے۔ اس صورتحال میں بظاہر اتحادی ممالک بھی ایک دوسرے کے عزائم سے پوری طرح بے نیاز نہیں۔

سعودی عرب کے ساتھ تعلقات اور دفاعی تعاون اپنی جگہ، لیکن پاکستان کو کسی دوسرے ملک کی جنگ میں فریق بننے سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر پاکستان اس بحران سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا تو کم از کم اسے نقصان بھی نہیں اٹھانا چاہیے۔ پاکستان کی قیادت کو تباہی و بربادی کے امریکی نقشے میں کودنے کے بجائے قومی سلامتی، خودمختاری اور معاشی مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے۔











آپ کا تبصرہ